اِسے کیا نام دیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اِسے کیا نام دیں بولو
کہ تم
اُس نرسری کا
ذکر کرنے سے گریزاں ہو
پنپتی ہے پنیری
جس جگہ مسموم پودوں کی
اور ان مذموم باغوں کی
کہانی سے بھی
کترا کر گزرتے ہو
جو اِن پودوں کو
تن آور درختوں میں بدلتے ہیں
مگر باغوں کے مالک
جب خود اِن کی
سرکش و آزاد شاخیں کاٹنے
یا پھر جڑوں تک کھود کر
پورا جلا دینے
نشاں تک بھی مٹا دینے
کے رستے ڈھونڈتے ہیں
تو
تم ان کی ہم نوائی میں
قلم کے نو بہ نو گُر آزماتے ہو
تمنا کی منڈیروں پر
دِیے جب جلنے لگتے ہیں
مفاد و مصلحت کے
نحس جھونکوں سے بجھاتے ہو
اور اس پر بھی
نڈر بے باک اہلِ حرف کہلاتے ہو
